ہے اور اس کا کام عوام الناس کی شرعی راہنمائی کرنا ہے۔
ہاں!اگر آپ کے پاس اسلامی بھائیوں کے آپس کے تنازعات واختلافات کے معاملات آئیں جن کا تعلق تنظیمی امور سے ہو تو حتی المقدور طرفین کی سن کر صلح کرو ادیں بشرطیکہ صلح میں کسی کی ایسی حق تلقی نہ ہو کہ جس کا ادا کرنا ضروری ہو۔ ورنہ اہلیت ہو تو حق بات پر فیصلہ کی ترکیب بنا دیجئے۔
’’امیرِ اہلسنّت‘‘ کے دس حروف کی نسبت سے فیصلہ کرنے کے دس مدنی پھول
{1} علمائے کرام کی خدمت میں حاضر ہوں۔
{2} جو اہل ہو وہی فیصلہ کرے۔
{3} حَکَم بننے کی خواہش نہیں کرنا چاہئے۔
{4} فریقین میں صلح کرا دیجئے۔
{5} فریقین سے برابری کا سلوک کیجئے۔
{6} ہر فریق کی بات توجہ سے سنئے۔
{7} فیصلہ میں جلدبازی نہ کیجئے۔
{8} خوب تحقیق سے کام لیجئے۔