Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
48 - 56
 ارشاد فرمائے گا: ’’اَنْتَ اَحْکَمُ بِہٖ مِنِّی؟ ‘‘ کیا تو مجھ سے بہتر حکم کرنے والا ہے؟ فَیُؤْمَرُ بِہٖ اِلَی النَّارِ۔  پھر اسے بھی آگ میں پھینکے جانے کا حکم دیا جائے گا۔ (التفسیر الکبیر للامام الفخر الرازی، سورۃ النور، تحت الایۃ:۲، الجزء الثالث والعشرون، ج۸، ص۳۱۷)
دار الافتاء سے رجوع کرنے کا مشورہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کچھ معاملات نجی نوعیت کے بھی ہوتے ہیں اگر آپ کے پاس ایسے معاملات آئیں جن کا تعلق گھریلو امور، طلاق، جائدادیا کاروبار وغیرہ سے ہو تو ایسی صورت میں ان فریقین کی علمائے اہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی طرف راہنمائی فرما دیں کہ یہ ان فیصلوں کی نزاکت اور انداز کو بہتر سمجھتے ہیں۔ 
الحمد للّٰہ علٰی اِحْسَا نِہٖ وَ بِفَضْلِ رَسُوْلِہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘ نیکی کی دعوت، اِحیائے سنّت اور اشاعتِ علمِ شریعت کو دنیا بھر میں عام کرنے کا عزمِ مُصمّم رکھتی ہے، اِن تمام اُمور کو بحسن وخوبی سر انجام دینے کے لئے متعدَّد مجالس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن کے تحت بہت سے شعبہ جات خدمت دین کے لئے کوشاں ہیں۔ ان میں سے ایک شعبہ  ’’دار الافتاء اہلسنت ‘‘  بھی ہے، یہ دعوتِ اسلامی کے عُلماء و مُفتیانِ کرامکَثَّرَہُمُ اللہُ تَعَالٰیپر مشتمل