ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جس نے حدود `کے نفاذ میں کمی کی ہو گی اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے پوچھے گا: ’’اے میرے بندے! لِمَ قَصَّرْتَ؟ تو نے سزا میں کمی کیوں کی؟ عرض کرے گا: ’’اے پروردگار! مجھے اس پر رحم آ گیا تھا۔‘‘ تواللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’کیا تیری رحمت میری رحمت سے بڑھ کر تھی؟‘‘ (جامع الاحادیث للسیوطی، الحدیث: ۲۸۲۱۷، ج۹، ص۲۳۴)
حضرت سَیِّدُنا امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تفسیر کبیر میں ایک حدیثِ پاک نقل فرمائی ہے کہ ’’قیامت کے دن ایک ایسے حاکم کو بارگاہِ خداوندی میں پیش کیا جائے گا جس نے حد میں ایک کوڑے کی کمی کی ہو گی۔ اس سے پوچھا جائے گا:’’لِمَ فَعَلْتَ ذَاکَ؟‘‘تو نے ایسا کیوں کیا؟ وہ عرض کرے گا:’’رَحْمَۃً لِّعِبَادِکَ۔‘‘ تیرے بندوں پر رحمت اور شفقت کرنے کے لئے۔ تو اسے کہا جائے گا: ’’اَ نْتَ اَ رْحَمُ بِہِمْ مِنِّیْ؟‘‘ کیا تو مجھ سے زیادہ ان پر رحم کرنے والا ہے؟ فَیُؤْمَرُ بِہٖ اِلَی النَّارِ۔ پس اسے دوزخ میں پھینک دینے کا حکم دیا جائے گا۔ پھر ایسے حاکم کو بارگاہِ الہٰی میں پیش کیا جائے گا جس نے مقررہ حد سے ایک کوڑا زیادہ مارا ہو گا۔ اس سے اس کی وجہ پوچھی جائے گی: ’’لِمَ فَعَلْتَ ذَلِکَ؟‘‘ تو نے ایسا کیوں کیا؟ تو عرض کرے گا:’’لِیَنْتَہُوْا عَنْ مَعَاصِیْکَ ۔‘‘ اے باری تعالیٰ! میں نے ایسا اس لئے کیا تاکہ لوگ تیری نافرمانی سے باز آ جائیں۔ تواللہ عَزَّ وَجَلَّ