Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
46 - 56
 کے ہوتے ہیں:ایک جنتی اور دو دوزخی۔ پس جنتی وہ ہے جو حق پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ کرے اور جو قاضی حق جان لے مگر فیصلہ میں ظلم کرے وہ دوزخی ہے اور جو جہالت پر (یعنی حق و ناحق کی تحقیق کے بغیر) لوگوں کے فیصلے کرے وہ بھی دوزخی ہے۔‘‘ (سنن ابی داود، کتاب الاقضیۃ، باب فی القاضی یخطیٔ،  الحدیث:۳۵۷۳، ج۳، ص۴۱۸)
ایک روایت میں ہے کہ روزِ قیامت تمام حاکموں کو لایا جائے گا، ان میں عادل بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ یہاں تک کہ جب وہ سب پل صراط پر کھڑے ہو جائیں گے تواللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’تم میں سے بعض میرے محبوب ہیں۔‘‘ (وہی بحفاظت پل صراط سے گزر پائیں گے) اور جو حاکم اپنے فیصلے میں ظلم کرنے والا، رشوت لینے والا یا مقدمے کے فریقین میں سے کسی ایک کی بات زیادہ توجہ اور دھیان سے سننے والا ہو گا وہ ستر سال تک دوزخ کی گہرائی میں گرتا چلا جائے گا۔ اس کے بعد ایسے حاکم کو لایا جائے گا جس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مقرر کردہ سزاؤں سے زیادہ کسی کو سزا دی ہو گی اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے دریافت فرمائے گا: ’’لِمَ ضَرَبْتَ فَوْقَ مَا اَمَرْتُکَ؟‘‘  تو نے میرے حکم سے زائد کیوں سزا دی؟ عرض کرے گا: ’’غَضِبْتُ لَکَ۔‘‘ اے باری تعالیٰ! مجھے تیری خاطر غصہ آ گیا تھا۔ تواللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’کیا تیرا غصہ میرے غضب سے زیادہ سخت تھا؟‘‘ اس کے بعد