{9} غصے میں فیصلہ نہ کیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی سبب سے طبیعت بے چین اور مضطرب ہونے یا غصہ وغیرہ کی کسی بھی ایسی حالت میں فیصلے سے گریز کرناچاہئے جو حق ونا حق کے درمیان رکاوٹ بن سکتی ہو۔چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ابو بکرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے حضرت عبد الرحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ارشاد فرمایا کہ سجستان کے قاضی عُبَیْدُ اللّٰہ بن ابی بکرہ کو مکتوب لکھو کہ کبھی بھی غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے صاحبِ حِلْم وحِکَم، رسول مُحْتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’کوئی شخص دو بندوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔ ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الاقضیۃ، باب کراہۃ القاضی وھو غضبان، الحدیث:۱۷۱۷، ص۹۴۵)
{10} کسی فریق کا حق ضائع نہ ہو
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فیصلہ کرتے ہوئے ہمیشہ یاد رکھئے کہ کسی فریق کا حق ضائع نہ ہو۔ ہمیشہ عدل کا دامن تھامے رہیں کہ عدل سے کام لینا جنت میں لے جانے والا اور فیصلہ میں ناانصافی کرنا جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ چنانچہ،
حضرت بریدہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ آقائے مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ا فرمان عالیشان ہے: ’’قاضی (یعنی فیصلہ کرنے والے) تین طرح