خاطر اپنے جسم کو آگ میں نہیں جھونک سکتا۔ جو جانتا نہیں اس سے زیادہ کوشش بھی نہیں کر سکتا۔ اگر صبر کرو تو مجھے امید ہے کہ تمہارے مسئلہ کا کوئی حل نکل آئے گا اور اگر میرے علاوہ کسی دوسرے کے پاس اس مسئلہ کے حل کے لئے جانا چاہتے ہو تو جاؤ، چلے جاؤ وہ تمہیں ایک لمحہ میں اس کا حل بتا دے گا۔‘‘ تو اس نے فوراً عرض کی: ’’جناب! میں تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، مجھے اس مسئلہ کے حل کے لئے کسی دوسرے کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔‘‘ پس آپ نے اسے صبر کی تلقین کی اور پھر اس کا مسئلہ بھی حل کر دیا۔ (ادب المفتی والمستفتی لابن صلاح، ص۱۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس روایت سے ہمیں دو مدنی پھول ملتے ہیں۔ ایک مسئلہ پوچھنے والے کے لئے اور دوسرا مسئلے کا حل بتانے والے کے لئے ہے:
مسئلہ پوچھنے والے کے لئے مدنی پھول یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ درپیش ہو تو کسی اہل اسلامی بھائی کی خدمت میں ہی اس کے حل کے لئے حاضر ہو اور غیر اہل کے پاس کبھی نہ جائے۔ اور حضرت سَحنون مالکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے عمل سے حل بتانے والے کے لئے یہ مدنی پھول ملتا ہے کہ مسئلہ کسی بھی نوعیت کا ہو کبھی بھی جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے اور حق بات جاننے کے لئے اس کی تمام جزئیات پر خوب غوروفکر کرنا چاہئے۔ کہیں غلط حل بتانے کی وجہ سے جہنم کی آگ کا حقدار نہ ہونا پڑے۔