صرف گواہی کو ہی کافی جانا۔ (المرجع السابق)
مسئلے کا جواب کئی دن بعد دیا:
ایک شخص حضرت سیِّدُنا سَحْنُون مالکی (1) عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک مسئلہ پوچھا۔ مگر آپ نے اسے فوراً جواب نہ دیا، وہ شخص لگاتار حاضرِ خدمت ہوتا رہا اور آخر تیسرے دن عرض کرنے لگا: ’’جناب! آج تیسرا دن ہے۔‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’اے میرے دوست! میں کیا کر سکتا ہوں؟ تمہارا مسئلہ بڑا پیچیدہ ہے۔ اس کے بارے میں بہت سے اقوال مروی ہیں اور میں حیران ہوں کہ کس قول کو ترجیح دوں۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’حضرت!اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو سلامتی و صحت عطا فرمائے! آپ تو ہر پیچیدہ مسئلہ حل کرنے والے ہیں۔‘‘ حضرت سَحنونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا: ’’اے نوجوان! ایسی باتیں نہ کرو۔ کیونکہ میں تمہاری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… آپ کا اصل نام ابو سعید عبدالسلام بن سعید تنوخی (المتوفیٰ ۲۴۰ ھ ) ہے اور سحنون لقب ہے۔ آپ نے حضرت سَیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمت میں رہ کر بیس سال تک علمی خزانے جمع کرنے والے حضرت عبدالرحمن بن قاسم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے علمی فیضان حاصل کیا۔ اور پھر مغرب میں حضرت امام مالکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے مذہب کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ (ادب المفتی والمستفتی لابن صلاح، ص۱۵) آپ قیروان کے قاضی بھی تھے۔ بہت زیادہ عقلمند و دانا انسان تھے، انتہائی متقی و پرہیزگار تھے اور عوام میں آپ کی جودوسخاوت کا شہرہ تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرمایا کرتے کہ دنیا کو چاہنے والا انسان ایک اندھے کی مثل ہوتا ہے اور علم کی روشنی بھی اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ (سیر اعلام النبلاء، ج۱۰، ص۷۱)