Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
42 - 56
(السنن الکبریٰ للبیھقی، کتاب آداب القاضی، باب التثبت فی الحکم، الحدیث:۲۰۲۷۴، ج۱۰،ص۱۷۹)
امامِ بیہقیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیاس روایت کو نقل کرنے کے بعد امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی بیان کردہ دونوں کہاوتوں کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ نے جو شعر پڑھا اس کی اصل یہ ہے کہ ایک شخص اپنے اونٹوں کو پانی پلانے کے لئے ایک ایسی جگہ لایا جہاں سے وہ خود پانی نہیں پی سکتے تھے جب تک کہ کوئی اس جگہ سے پانی نکال کر انہیں نہ پلاتا (مثلاً کنواں وغیرہ) اور پھر وہ شخص خود چادر تان کر سو گیا اور اونٹوں کو پانی پینے کے لئے ویسے ہی چھوڑ دیا ۔ تو ایسے شخص کو شاعر نے نصیحت کی ہے کہ اے فلاں! تمہارے سو جانے سے اونٹ سیراب نہ ہوں گے۔ اور دوسری کہاوت میں ارشاد فرمایا کہ پانی پلانے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ حوض وغیرہ جیسی جگہوں پر پانی پلایا جائے جہاں مشقت نہ اٹھانا پڑے اور جانور خود ہی پانی پی لیں۔ 
یعنی آپ نے قاضی شریحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ارشاد فرمایا کہ اے شریح! معاملہ کی حقیقت جاننے کے لئے خوب تحقیق سے کام لیتے اور اس میں خوب غوروفکر کر کے اس شخص کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے کہ اس کے ساتھ درحقیقت کیا معاملہ پیش آیا مگر انہوں نے آسان راستہ اپنایا اور تحقیق کو مشکل جانتے ہوئے