اس معاملہ کو امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی بارگاہ میں لے گئے اور ساری بات عرض کر دی کہ قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ان سے یہ یہ کہا ہے۔ ان کی ساری باتیں سن کر امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے طرزِ عمل پر پہلے بطورِ کہاوت یہ شعر پڑھا:
اَوْرَدَھَا سَعْدٌ وَسَعْدٌ مُشْتَمِلٌ
یَا سَعْدُ لَا تُرْویٰ بِہَا ذَاکَ الْاِبِلُ
ترجمہ: سعد چادر میں اونٹوں کو کنویں پر لایا اور خود چادر تان کر سو گیا (اے کاش! کوئی سعد کو بتائے کہ) اے سعد! اونٹوں کو اس طرح پانی نہیں پلایا جاتا۔
اس کے بعد آپ نے ایک اور عربی کہاوت کہی: اِنَّ اَھْوَنَ السَّقْیِ التَّشْرِیْعُ۔ یعنی جانوروں کو پانی پلانا ہو تو سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں کسی گھاٹ وغیرہ سے پانی پلایا جائے۔
پھر آپ نے اس شخص کے تمام دوستوں کو جدا جدا کر کے بلایا اور ان سے مختلف سوالات کئے تو ان کے جوابات میں پہلے تو اختلاف پایا گیا اور بالآخر انہوں نے تسلیم کر لیا کہ ہاں واقعی انہوں نے اس شخص کو قتل کر دیا ہے۔ چنانچہ، امیر المومنین نے فیصلہ فرمایا کہ بطورِ قصاص ان سب کو بھی قتل کر دیا جائے۔