بھر کر اسے ماری اور فرمایا کہ (فیصلہ میں جلدی کرنے سے) رک جاؤ۔ کیونکہ آپ فیصلہ میں جلد بازی کو ناپسند فرماتے تھے۔ (السنن الکبریٰ للبیھقی، کتاب آداب القاضی، باب کراہیۃ طلب الامارۃ والقضاء--- الخ، الحدیث:۲۰۲۵۲، ج۱۰،ص۱۷۳)
{8} خوب تحقیق سے کام لیجئے
پہلے خوب تحقیق سے کام لے ،پھر جو حق ظاہر ہو اسی پر فیصلہ دے۔ چنانچہ،
رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جب قاضی فیصلہ کرے تو خوب تحقیق کر لیا کرے، (اگر تحقیق کے بعد) اس نے درست فیصلہ کیا تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور اگر اس سے (فیصلہ میں) کوئی خطا ہو جائے تو اس کے لئے ایک اجر ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الاقضیہ، باب بیان اجر الحاکم اذا اجتہد فاصاب او اخطا، الحدیث: ۱۷۱۶، ص۹۴۴)
دوست کے قاتل:
ایک شخص اپنے چند دوستوں کے ساتھ کسی سفر پر گیا، اس کے دوست تو واپس لوٹ آئے مگر وہ واپس نہ آیا تو اس کے گھر والوں نے اس کے دوستوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ جب معاملہ قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے پاس گیا تو آپ نے پوچھا کیا قتل کا کوئی گواہ ہے؟ چونکہ، قتل کا کوئی گواہ نہ تھا لہٰذا وہ