کہ اس کے بعد کبھی مجھے کسی فیصلہ میں تردّد نہ ہوا۔
(ابو داود، کتاب القضاء، باب کیف القضاء، الحدیث:۳۵۸۲، ج۳،ص۶۳)
{7} فیصلہ میں جلدبازی نہ کیجئے
آداب فیصلہ میں سے اہم ترین یہ ہے کہ فیصلہ میں جلدی نہ کرے۔ کیونکہ جلدبازی کا انجام برا ہوتا ہے۔ چنانچہ،
سرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ ہدایت نشان ہے کہ کسی کام میں توقف کرنا (جلدبازی سے کام نہ لینا)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ (سنن الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی التأنی والعجلۃ، الحدیث:۲۰۱۹، ج۳، ص۴۰۷)
صحابی رسول کی حکایت:
اسی طرح مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں دو شخص باب کندہ کی جانب سے داخل ہوئے۔ اس وقت کچھ انصار دائرے کی صورت میں تشریف فرما تھے، جن میں حضرت سیِّدُنا ابو مسعود انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی شامل تھے۔ چنانچہ، ان دونوں میں سے ایک نے انصار کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ کیا کوئی شخص ہمارے جھگڑے کا فیصلہ کر دے گا؟ تو ایک شخص فوراً بولا ہاں ادھر میرے پاس آؤ۔ تو اس کی یہ بات سن کر سیِّدُنا ابو مسعود انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کنکریوں کی مٹھی