کریں گے جب تک کہ اُن کے نزدیک حضرت عمر اور دوسرا مسلمان برابر نہ ہو جائے۔ یعنی جو شخص مدعی اور مدعا علیہ میں اس قسم کی تفریق کرے وہ فیصلہ کا اہل نہیں۔ (تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم ۲۲۳۱ زید بن ثابت، ج۱۹، ص۳۱۹)
{6} ہر فریق کی بات توجہ سے سنئے
آدابِ فیصلہ میں سے یہ بھی ہے کہ فریقین میں سے جس طرح ایک کی بات سنی جائے تو اسی طرح بڑی توجہ سے دوسرے کی بات بھی سنی جائے۔ چنانچہ،
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں کہ مجھے حضور نبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ے یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا، تو میں نے عرض کی:یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ مجھے بھیج تو رہے ہیں مگر میں کم عمر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنے کا علم بھی نہیں ہے۔ (لہٰذا اس امر میں میری اِعانت بھی فرمائیے!) تو سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے دل کو ہدایت دے گااور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا۔ (دھیان رکھنا کہ) جب فریقین تمہارے سامنے بیٹھ جائیں تو اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک کہ دونوں کی باتیں نہ سن لو۔ کہ یہ طریقہ کار تمہارے لئے فیصلہ کو واضح کر دے گا۔‘‘
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں