Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
37 - 56
 اور حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَادرمیان کسی معاملہ میں شکر رَنجی تھی۔ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مشورہ فرمایاکہ کسی کو ثالث مقرر کر لیتے ہیں۔ چنانچہ، دونوں حضرت سیِّدُنا زید بن ثابترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ثالث مقرر کرنے پر رضامند ہو کر ان کے پاس ان کے گھر تشریف لائے۔ جب امیر المومنین سیِّدُنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے فرمایا کہ ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں کہ آپ ہم میں فیصلہ کر دیں۔ سیِّدُنا زید بن ثابترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں عموماً ایسا جو معاملہ بھی پیش ہوتا وہ اپنے گھر میں ہی اس کا فیصلہ فرمایا کرتے۔ چنانچہ، جب دونوں حضرات سیِّدُنا زید بن ثابترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی مخصوص نشست سے ہٹ کر عرض کی: امیر المومنین یہاں تشریف لائیے۔ تو امیر المومنین حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ تمہارا پہلا ظلم ہے جو تم نے فیصلہ میں کیا ہے۔ میں اپنے فریق کے ساتھ بیٹھوں گا۔ چنانچہ، دونوں حضرات حضرت زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سامنے بیٹھ گئے اور ساری صورتِ حال بیان کر دی تو انہوں نے فیصلہ سناتے ہوئے فرمایا کہ ابی بن کعب کو حق حاصل ہے کہ وہ امیر المومنین سے قسم لیں اور اگر چاہیں تو معاف کر دیں مگر حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے قسم کھا لی اور پھر سیِّدُنا زید بن ثابترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے قسم لی کہ وہ اس وقت تک کسی جھگڑے کا فیصلہ نہ