Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
36 - 56
{5} فریقین سے برابری کا سلوک کیجئے
جو اہلیت رکھتے ہو ئے فیصلہ کرے،عدل وانصاف کے تقاضے ضرور پورے کرے جیساکہ قرآن پاک کا حکم ہے: 
وَ اِذَا حَکَمْتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحْکُمُوۡا بِالْعَدْلِ ِ ؕ (پ۵، النساء:۵۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔
صدر الافاضل، حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی’’خزائن العرفان‘‘ میں اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ حاکم (اور فیصلہ کرنے والے) کو چاہئے کہ پانچ باتوں میںفریقین کے ساتھ برابر کا سلوک کرے:(۱)… اپنے پاس آنے کے لئے جیسے ایک کو موقع دے ویسے دوسرے کو بھی دے۔(۲)…نشست (یعنی بیٹھنے کی جگہ) دونوں کو ایک جیسی دے۔(۳)…دونوں کی طرف برابر متوجہ رہے۔(۴)…کلام سننے میں ہر ایک کے ساتھ ایک ہی طریقہ رکھے۔(۵)…فیصلہ دینے میں حق کی رعایت کرے،جس کا دوسرے پر حق ہو پورا پورا دلائے۔
فاروقِ اعظم کی ثالث کو ہدایت:
امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر