کردار اور نیک گُفتار سے مسلمانوں میں سے شر وفساد کو ختم کرنے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہے۔چنانچہ،
صلح کی ایک عجیب حکایت
حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہاللہکے محبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ نصیحت نشان ہے کہ ایک شخص نے زمین خریدی تو اسے زمین میں سے سونے سے بھرا ہوا ایک گھڑا ملا۔ وہ زمین بیچنے والے شخص کے پاس گیا اور بولا کہ یہ سونا اس کا ہے کیونکہ اس نے تو صرف زمین خریدی تھی سونا نہیں۔ تو زمین بیچنے والے نے جواب دیا کہ یہ سونا اب میرا نہیں کیونکہ میں نے زمین اور جو کچھ اس میں تھا سب کچھ بیچ دیا تھا۔ جب دونوں سونا رکھنے پر آمادہ نہ ہوئے تو انہوں نے ایک شخص کو اپنے اس عجیب جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے لئے ثالث بنایا، اس نے ان دونوں سے پوچھا: کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟ ایک بولا میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا میری ایک بیٹی ہے۔ تو ثالث نے کہا تمہارے جھگڑے کاحل یہ ہے کہ تم دونوں اپنے بچوں کی ایک دوسرے سے شادی کر دو اور یہ سارا سونا ان دونوں کو دے دو۔ (صحیح مسلم، کتاب الاقضیۃ، باب استحباب اصلاح الحاکم بین الخصمین، الحدیث:۱۷۲۱، ص۹۴۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد