دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا اِصْلَاح بَیْنَ النَّاس (یعنی لوگو ں کے درمیان صلح کرانے کے حکم) کے مطابق عمل کرنا ایک انتہائی عظیم مدنی کام ہے۔ اس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اتنا خوش ہوتا ہے کہ نفلی نماز، روزے اور صدقہ دینے سے بھی نہیں ہوتا۔چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ اِمامُ النَّبیِّینَ وَ الْمُرْسَلین، سیِّدُالْمُرشِدِینَ وَالصّٰلِحِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے (صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے) ارشاد فرمایا: ’’کیا تمہیں نماز، روزے اور صدقہ دینے سے افضل کام کی خبر نہ دوں؟‘‘ صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْننے عرض کی: ’’کیوں نہیں (اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)۔‘‘ فرمایا: ’’وہ کام صلح کروا دینا ہے اور فساد پھیلانا تو (دین کو) مونڈنے والا (کام) ہے۔‘‘
(مسند احمد بن حنبل، الحدیث:۲۷۵۷۸، ج۱۰، ص۴۲۲)
اچھا اسلامی بھائی کون؟
دیکھا آپ نے! اسلامی بھائیوں میںصلح کروا دینا کیسا فضیلت و عظمت والا کام ہے۔ تو وہ کتنا اچھا اور بھلا اسلامی بھائی ہے جو اپنے چھوٹو ں پر شفقت اور اپنے بڑوںکی عزت ،ہم مَشرَب دوستوں کی مُرُوّت وحُرمت اور تمام اسلامی بھائیوں کی بھلائی اور خیر خواہی کے طرزِ عمل کو اختیار کرتے ہوئے اپنے پاکیزہ