خوش اسلوبی سے حل کر کے ان کے درمیان صلح کرا دیں۔ چنانچہ،
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیۡنِہِمَا فَابْعَثُوۡا حَکَمًا مِّنْ اَہۡلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَہۡلِہَا ۚ اِنۡ یُّرِیۡدَاۤ اِصْلٰحًا یُّوَفِّقِ اللہُ بَیۡنَہُمَا ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیۡمًا خَبِیۡرًا ﴿۳۵﴾ (پ۵، النساء:۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے یہ دونوں اگر صلح کراناچاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔
مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانتفسیر نور العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ شوہر اور بیوی میں صلح کرادینا بہترین عبادت ہے۔ ایسے ہی مسلمانوں میں صلح کرانا بہت اچھا ہے۔ (نور العرفان، پ۵، النساء:۳۵)
نَفلی صلوۃ و خیرات سے افضل کام:
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 40 صَفحات پر مشتمل رسالے ،’’ناچاقیوں کا علاج‘‘ صَفْحَہ 35تا37 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری