Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
32 - 56
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے کہ فریقینِ مقدمہ کو واپس کر دو تاکہ وہ آپس میں صلح کر لیں کیونکہ معاملہ کا فیصلہ کر دینا لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرتا ہے۔‘‘ (السنن الکبری للبیہقي، کتاب الصلح، باب ماجاء فی التحلل۔۔۔إلخ، الحدیث:۱۳۶۰، ج۶، ص۱۰۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مشتبہ امور میں قاضی کے لئے مناسب یہ ہے کہ فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرے بلکہ ایک دو مرتبہ فریقین کو واپس لوٹا دے تا کہ وہ خوب غوروفکر کر کے آپس میں صلح کر لیں کیونکہ صلح سے آپس میں پیار و محبت کی فضا قائم رہتی ہے اور دلوں میں بغض و کینہ کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی اور اگر فریقین صلح پر راضی نہ ہوں تو قاضی کو چاہئے کہ حق کے موافق فیصلہ کر دے۔ 
(المبسوط للسرخسی، کتاب الصلح، ج۱۰، ص۱۴۸ ملتقطاً)
میاں بیوی میں صُلْح کرا دیجئے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر ایسی ناچاقی زوجین میں پیدا ہو کہ جس کا حل وہ آپس میں طے نہ کر سکیں تو مرد کو طلاق میں جلد بازی سے کام لینا چاہئے نہ عورت کو خلع میں۔ اور انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ جھگڑے کے حل کے لئے کورٹ کچہری جانا پڑے نہ کسی عام مجلس میں۔ بلکہ اپنے عزیز و اقارب میں سے ایسے دو افراد کا انتخاب کریں کہ جو شریعت کی سوجھ بوجھ بھی رکھتے ہوں اور ان کے جھگڑے کو