اللہ عَزَّ وَجَلَّبھی بروزِ قِیامت مسلمانوں میں صلح کروائے گا۔‘‘
(المستدرک، الحدیث:۸۷۵۸، ج۵، ص۷۹۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث مذکور مسلمانوں کے درمیان صلح کروانے کی سنت الٰہیہ اور صلح کی تر غیب دلانے کی سنت مصطفویہ کی مقد س ومشکبار خوشبو ؤں سے مہک رہی ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کر ے ہم بھی اس سنت خوشبو دار سے اپنے ظاہر وبا طن کو معطر ومعنبر کر کے اسلامی بھائیوں میں بھائی چار گی کی بھر پور سعی کریں اور اپنے ماحول کو صلح وخیر کی خوشبوؤںسے مہکتا گلزار بلکہ مدینے کا باغ سدا بہار بنا دیں۔ چنانچہ،
صُلْح خوب اور بہتر ہے:
ہمارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے صلح کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:
وَالصُّلْحُ خَیۡرٌ ؕ وَاُحْضِرَتِ الۡاَنۡفُسُ الشُّحَّ ؕ (پ۵، النساء:۱۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اورصلح خو ب ہے ، اور دل لالچ کے پھندے میں ہیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض اوقات فریقین کے نزاع کو ختم کر کے صلح کروانا بہت زیادہ سود مند ہوتا ہے۔ کیونکہ فریقین میں سے ایک کے حق میں فیصلہ ہو جانے کی صورت میں دوسرے کے دل میں عداوت و کینہ اور بغض و حسد وغیرہ جیسی بیماریاں جڑ پکڑ لیتی ہیں۔ جن کا ازالہ آسانی سے ممکن نہیں ہوتا۔ چنانچہ،