والے ) سے فرمائے گا: ’’اب یہ بے چارہ (یعنی جس پر دعویٰ کیا گیا ہے وہ) کیا کرے اس کے پاس تو کوئی نیکی باقی نہیں۔‘‘ مظلوم (مُدَّعِی) عرض کرے گا: ’’میرے گناہ اس کے ذِمّے ڈالدے۔‘‘ اِتنا ارشاد فرما کر سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رو پڑے۔ فرمایا: ’’وہ دن بہت عظیم دن ہوگا۔ کیونکہ اس وقت (یعنی بروزِ قِیامت) ہر ایک اس بات کا ضرورت مند ہو گا کہ اس کا بوجھ ہلکا ہو۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّمظلوم سے فرمائے گا: ’’دیکھ تیرے سامنے کیا ہے؟‘‘ وہ عرض کرے گا: ’’اے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ! میں اپنے سامنے سونے کے بڑے شہر اور بڑے بڑے محلات دیکھ رہا ہوں جو موتیوں سے آراستہ ہیں۔ یہ شہر اور عمدہ محلات کس پیغمبر یا صدیق یا شہید کے لئے ہیں؟‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّفرمائے گا: ’’یہ اس کے لئے ہیں جوان کی قیمت ادا کرے۔‘‘ بندہ عرض کرے گا: ’’ان کی قیمت کون ادا کر سکتا ہے؟‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّفرمائے گا: ’’تو ادا کر سکتا ہے۔‘‘ وہ عرض کرے گا: ’’وہ کس طرح؟‘‘ 2 فرمائے گا: ’’اس طر ح کہ تو اپنے بھائی کے حقوق معاف کر دے۔‘‘ بندہ عرض کرے گا: ’’یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں نے سب حقوق معاف کئے۔‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّفرمائے گا: ’’اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑو اور دونوں اکٹھے جنت میں چلے جاؤ۔‘‘ پھر سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالک ومختار، شہنشاہِ ابرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرو اور مخلوق میں صلح کرواؤ کیونکہ