Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
29 - 56
 کسی مسئلہ پر اختلاف پیدا ہو جائے تو ان میں صلح کرا دینا میٹھے میٹھے مدینے والے مصطفی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت مبارکہ ہے۔ اور یہ بھی جان لیجئے کہ صلح کرانا صرف ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہی سنت نہیں بلکہ ہمارے پیارے ربّعَزَّ وَجَلَّ نے بھی ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ، 
اللہ عَزَّ وَجَلَّ صُلح کروائے گا:
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 40 صَفحات پر مشتمل رسالے ،’’ناچاقیوں کا علاج‘‘ صَفْحَہ 30تا32 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ایک رو ز سرکارِ دوعالم، نورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرما تھے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تَبسُّم فرمایا۔ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: ’’ یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرمیرے ماں باپ قربان! آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کس لئے تبسم فرمایا؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’میرے دو اُمتیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں دوزانُو گر پڑیں گے، ایک عرض کر ے گا: ’’یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اِس سے میرا اِنصاف دلا کہ اِس نے مجھ پر ظلم کیا تھا۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ مُدَّعِی (یعنی دعویٰ کرنے