Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
28 - 56
اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیۡنَ ﴿۹﴾ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوۡا بَیۡنَ اَخَوَیۡکُمْۚ وَ اتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿۱۰﴾٪ (پ۲۶، الحجرات:۹ تا ۱۰)
ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو بیشک عدل والےاللہکو پیارے ہیں۔ مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اوراللہسے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔ 
صدر الافاضل، حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی’’خزائن العرفان‘‘ میں ان آیاتِ مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دراز گوش پر سوار تشریف لے جاتے تھے ، انصار کی مجلس پر گزرہوا، وہاں تھوڑا سا توقف فرمایا، اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو ابنِ اُبَیْ نے ناک بند کرلی۔ حضرت عبداللہبن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ حضور کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے، حضور تو تشریف لے گئے، ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑ گئیں اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچی تو سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ واپس تشریف لائے اور ان میں صلح کرا دی۔ اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (خزائن العرفان، پ۲۶، الحجرات، تحت الایۃ:۹) 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس سے معلوم ہوا کہ اگر دو اسلامی بھائیوں میں