صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب قاضی عدالت میں بیٹھتا ہے تو دو فرشتے اترتے ہیں اور اس کی رائے کو درست رکھتے ہیں، اسے ٹھیک بات سمجھنے کی توفیق دیتے ہیں اور اسے صحیح راستہ سجھاتے ہیں جب تک کہ حق سے منہ نہ موڑے اور جہاں اس نے حق سے منہ موڑا فرشتوں نے بھی اسے چھوڑا اور آسمان پر پرواز کر گئے۔ (السنن الکبریٰ، کتاب آداب القاضی، باب فضل من ابتلی بشیٔ من الاعمال، الحدیث:۲۰۱۶۶، ج۱۰، ص۱۵۱)
فاروقِ اعظم کے مدد گار فرشتے:
حضرت سیِّدُنا سعید ابن مسیبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے مروی ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ َضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہودی کو حق پر دیکھ کر اس کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔ اس پر اُس یہودی نے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کی: ’’ اللہ کی قسم! یقیناً آپ نے حق فیصلہ فرمایا ہے۔‘‘ امیر المومنین سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے دُرّہ مار کر دریافت فرمایا: ’’تجھے کیسے معلوم ہوا؟‘‘ یہودی نے عرض کی: ’’ اللہ کی قسم! ہم توریت میں پاتے ہیں کہ ایسا کوئی قاضی نہیں جو حق کے مطابق فیصلہ کرے مگر ایک فرشتہ اس کے دائیں طرف ہوتا ہے اور ایک فرشتہ بائیں طرف۔ یہ دونوں فرشتے اس وقت