جس کا ظلم عدل پر غالب آیا اُس کے لیے جہنم ہے۔‘‘
(سنن ابي داود، کتاب الأقضیۃ، باب في القاضی یخطیٔ، الحدیث:۳۵۷۵،ج۳، ص۴۱۸)
ذمہ داری مانگ کر لینے کا نقصان:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ذمہ داری مانگ کر نہ لی جائے، اگر مانگ کر ذمہ داری لی جائے تو بعض اوقاتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت شاملِ حال نہیں رہتی اور اگر بن مانگے مل جائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت و نصرت بھی شاملِ حال رہتی ہے۔ چنانچہ، مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن سمرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے سرورِ دو جہاں، رحمت عالمیاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اے عبدالرحمن! امارت نہ مانگو کیونکہ اگر وہ تمہارے مانگنے پر تمہیں دی گئی تو تمہیں بھی اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور اگر بن مانگے دی گئی تو اس پر تمہاری مدد بھی کی جائے گی۔‘‘
(صحیح البخاري، کتاب الأحکام، باب من سأل الإمارۃ وکل الیھا، الحدیث:۷۱۴۷،ج۴،ص۴۵۶)
دو فرشتوں کی مدد:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یہ مدد ان دو فرشتوں کے ذریعے ہوتی ہے جو درست فیصلہ کرنے میں حَکَم کو حق پر ثابت قدم رکھتے ہیں۔ چنانچہ،
حضرت عبد اللّٰہ بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ رسولِ کریم