Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
24 - 56
 کہ’’ احادیث میں طلبِ اِمارت کی ممانعت آئی ہے ، اس کے یہ معنی ہیں کہ جب مُلک میں اہل موجود ہوں اور اقامتِ اَحکامِ الٰہی کسی ایک شخص کے ساتھ خاص نہ ہو اس وقت اِمارت طلب کرنا مکروہ ہے لیکن جب ایک ہی شخص اہل ہو تو اس کو احکامِ الٰہیہ کی اقامت کے لئے اِمارت طلب کرنا جائز بلکہ واجب ہے اور حضرت یوسف عَلَیْہَ الصَّلَاۃ ُوَالسَّلَاماسی حال میں تھے  آپ رسول تھے، امّت کے مصالح کے عالِم تھے، یہ جانتے تھے کہ قحط شدید ہونے والا ہے جس میں خَلق کو راحت و آسائش  پہنچانے کی یہی سبیل ہے کہ عنانِ حکومت کو آپ اپنے ہاتھ میں لیں اس لئے آپ نے اِمارت طلب فرمائی۔‘‘
پس جو اسلامی بھائی اچھی طرح کسی معاملے کی نزاکت و حقیقت سے آگاہ ہو نہ اس نے پہلے کبھی کوئی ایسا کام کیا ہو تو اس سے غلطی کا امکان ہوتا ہے اور اگر وہ اسلامی بھائی اس معاملے کو خوش اسلوبی سے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اسے ذمہ دار بنانے میں کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ، 
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے مسلمانوں کے باہمی امور کا فیصلہ کرنے کا عہدہ مانگا یہاں تک کہ اسے پا لیا پھر اس کا عدل اُس کے ظلم پر غالب رہا (یعنی عدل نے ظلم کرنے سے روکا) تو اُس کے لیے جنت ہے اور