Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
23 - 56
 ’’ یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے امیر (لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے والا) بنا دیجئے۔‘‘ اور دوسرے نے بھی یہی عرض کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ ہم اُس کو والی نہیں بناتے جو اس کا سوال کرے اور نہ اُس کو جو اس کی حرص کرے۔‘‘ (صحیح البخاري،کتاب الأحکام، باب مایکرہ من الحرص علی الإمارۃ،الحدیث:۷۱۴۹،ج۴،ص۴۵۶)
ذمہ داری مانگ کر لینے کی صورت:
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! کوشش کی جائے کہ ذمہ داری مانگ کر نہ لی جائے، اگرچہ ایسا کرنا جائز ہے جبکہ اہلیت ہو اور اس جیسا کوئی نہ ہو جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا یوسفعَلَیْہِمُ الصَّلَاۃ ُوَالسَّلَامکے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے ذمہ داری مانگ کر لی تھی۔ چنانچہ،سورۂ یوسف میں ہے: 
قَالَ اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ ۚ اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۵﴾  (پ۱۳، یوسف:۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان: یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں ۔ 
صدر الافاضل، حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی’’خزائن العرفان‘‘ میں اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں