کرکے، ان میں جان بڑی مصیبت سے اور بہت دیر میں نکلتی ہے۔ ایسا قاضی بدن میں موٹا ہوجاتا ہے مگر دین اس طرح برباد کرلیتا ہے کہ اس کی سزا دنیامیں بھی پاتا ہے اور آخرت میں بھی بہت دراز ، کیونکہ ایسا قاضی ظلم ، رشوت، حق تلفی وغیرہ ضرور کرتا ہے جس سے دنیا اس پر لعنت کرتی ہے اللہ ، رسول ناراض ہیں، فرعون، حجاج یزید وغیرہ کی مثالیں موجود ہیں، اس حدیث کی بنا پر حضرت امام ابو حنیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جیل میں جان دینا قبول فرما لیا مگر قضا قبول نہ فرمائی۔
(مراٰۃ شرح المشکاۃ، کتاب الاقضیۃ، الفصل الثانی، ج۵، ص۳۷۷)
کوئی اسلامی بھا ئی جان بوجھ کر ایسا کام کیوں کرے گا کہ بغیر چھری سے ذَبح کرنے کی طرح بظاہر تو عافیت میں اور جاہ وعظمت والا ہو مگر باطنی طور پر ہلاکت وبربادی اس کا مقدر بن جائے۔
{3} حَکَم بننے کی خواہش نہیں کرنا چاہئے
اگر کوئی اسلامی بھائی خود اس خواہش کا اظہار کرے کہ اسے حَکَم (یعنی فیصلہ کرنے والا) بنا دیا جائے تو ایسا ہر گز نہ کیا جائے۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ میں اور میری قوم کے دو شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے، ان میں سے ایک نے عرض کی: