Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
21 - 56
 اختیار ہے قبول کرے یا نہ کرے اور اگر یہ صلاحیت رکھتا ہے مگر دوسرا اس سے بہتر ہے تو اس کو قبول کرنا مکروہ ہے اور یہ شخص اگر خود جانتا ہے کہ یہ کام مجھ سے انجام نہ پا سکے گا تو قبول کرنا حرام ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب أ دب القاضی،الباب الثانی فی الدخول فی القضائ،ج۳،ص۳۱۱ مفہوماً)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو اپنے اندر حق بات کا فیصلہ کرنے کی اہلیت نہ پاتا ہو تو وہ فریقین سے عرض کر دے کہ وہ اس معاملہ کو کسی اہل (بڑے ذمہ دار) کے پاس لے جائیں اور اس صورت میں عزت ومرتبہ کے زعم میں خود کو بطورِ حَکَم پیش کر کے ہر گز ہلاکت میں نہ پڑے اور نہ ہی دل میں ایسی طلب وتمنا رکھے کہ یہ معاملہ ہمارے اندازے سے کہیں بڑھ کر نزاکت کا حامل اور احتیاط کا تقاضا کرنے والا ہے۔ چنانچہ،حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو لوگوں کے درمیان قاضی بنایا گیا گویا بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا۔‘‘ (سنن ابي داود، کتاب الأقضیۃ، باب في طلب القضاء،الحدیث:۳۵۷۲، ج۳،ص۴۱۷)
مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ چھری سے ذبح کردینے میں جان آسانی سے اور جلد نکل جاتی ہے، بغیر چھری مارنے میں جیسے گلا گھونٹ کر ، ڈبو کر، جلا کر ، کھانا پانی بند