احادیث الرسول، الاصل الثالث والاربعون، فی تسلیم الحق وسر مصافحتہ لعمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ، الحدیث:۲۶۸، ج۱، ص۱۷۶ )
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اطاعت وفرمانبرداری کی توفیق عنایت فرمائے کہ جب بھی کوئی نزاع پیدا ہو تو ہم اسے قرآن وسنت کے سنہری اصولوں کے مطابق حل کرنے کی کوشش کریں۔ نیز اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ہمیشہ منافقین و کفار جیسے طرزِ عمل سے محفوظ فرمائے۔
(اٰمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{2} جو اہل ہو وہی فیصلہ کرے
اگر دو اسلامی بھائیوں کے درمیان کسی بات پر شدید اختلاف پیدا ہو جائے اور انہیں اس کا کوئی حل نظر نہ آتا ہو تو وہ کسی ایسے ذمہ دار اسلامی بھائی کی خدمت میں حاضر ہوں جو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ چنانچہ،
جس اسلامی بھائی کی خدمت میں فریقین حاضر ہوں، اگر صرف وہی اس جھگڑے کا فیصلہ کر سکتا ہو اور کسی دوسرے میں صلاحیت ہی نہ ہو کہ انصاف کرے تو اس صورت میں اُس اسلامی بھائی پر واجب ہے کہ وہ ان کے اختلاف کو ختم کر دے۔ اور اگر کوئی دوسرا اسلامی بھائی بھی اس قابل ہو مگر یہ زیادہ صلاحیت رکھتا ہے تو اب اس کو قبول کر لینا مستحب ہے اور اگر دوسرے بھی اسی قابلیت کے ہیں تو