عمر کے پاس جاؤں جو اللہ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فیصلے سے انحراف کرنے والا ہے۔‘‘ تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم اس کے ساتھ جاؤ۔‘‘ جب دونوں امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا معاملہ بیان کیا تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا: ’’جانے میں جلدبازی کا مظاہرہ نہ کرنا جب تک کہ میں تمہارے پاس نہ آ جاؤں۔‘‘ اس کے بعد اپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ گھر جا کر اپنی تلوار اٹھا لائے اور واپس آ کر فرمایا: ’’اب دوبارہ اپنا معاملہ بیان کرو۔‘‘ جب دونوں نے سارا معاملہ بیان کیا اور امیر المومنین عمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر خوب واضح ہو گیا کہ منافق اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فیصلے سے رُوگردانی کر رہا ہے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی تلوار سے منافق کے سر پر ایسا وار کیا کہ تلوار اس کے جگر تک پہنچ گئی، پھر ارشاد فرمایا: ’’جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فیصلہ نہ مانے میں اس کا فیصلہ اس طرح کرتا ہوں۔‘‘ ادھر جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام فوراً بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ’’ یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! عمر نے ایک شخص کو قتل کر دیا ہے کیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّ عمر کی زبان سے حق و باطل کے درمیان فرق کرانا چاہتا تھا۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو فاروق کہا جانے لگا۔ (نوادر الاصول فی