Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
18 - 56
 قول نقل کیا ہے کہ دو بندوں کے درمیان ایک شے میں جھگڑا ہو گیا ان میں سے ایک منافق اور دوسرا مومن تھا۔ منافق کا دعویٰ تھا کہ یہ شے اس کی ہے۔ چنانچہ، دونوں بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے اور سارا معاملہ عرض کیا۔ جب سرکارِ ابد قرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حق بات کا فیصلہ فرماتے ہوئے مومن کے حق میں اور منافق کے خلاف فیصلہ فرمایا تو وہ فوراً بولا: ’’یا یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ہم دونوں کو اس بات کے فیصلے کے لئے سیِّدُنا ابو بکر صدیق کے پاس بھیج دیجئے۔‘‘ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ٹھیک ہے تم دونوں ابو بکر کے پاس چلے جاؤ۔‘‘ جب انہوں نے حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہو کر ساری بات بتائی اور سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا: ’’میں ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا اہل نہیں جو اللہ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فیصلے سے منہ پھیرتے ہیں۔‘‘ بارگاہِ صدیق سے مایوس ہو کر جب وہ منافق اپنے مومن ساتھی کے ساتھ واپس بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو پھر عرض کی کہ انہیں حضرت سیِّدُنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس بھیج دیا جائے۔ جب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ اجازت بھی دے دی تو مومن نے عرض کی: ’’ یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! کیا ایسے شخص کے ساتھ سیِّدُنا