Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
17 - 56
فرماتے ہیں کہ ’’کُفّار و منافقین بارہا تجرِبہ کر چکے تھے اور انہیں کامل یقین تھا کہ سیدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فیصلہ سرا سر حق و عدل ہوتا ہے، اس لئے ان میں جو سچا ہوتا وہ تو خواہش کرتا تھا کہ حضور اس کا فیصلہ فرمائیں اور جو ناحق پر ہوتا وہ جانتا تھا کہ رسولِ اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سچی عدالت سے وہ اپنی ناجائز مراد نہیں پا سکتا۔ اس لئے وہ حضور کے فیصلہ سے ڈرتا اور گھبراتا تھا۔ 
شانِ نُزول: بِشر نامی ایک منافق تھا ایک زمین کے معاملہ میں اس کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا یہودی جانتا تھا کہ اس معاملہ میں وہ سچا ہے اور اس کو یقین تھا کہ سیدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حق و عدل کا فیصلہ فرماتے ہیں اس لئے اس نے خواہش کی کہ اس مقدمے کا حضور عَلَیْہِ السَّلَامسے فیصلہ کرایا جائے لیکن منافق بھی جانتا تھا کہ وہ باطل پر ہے اور سیدِ عالَم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عدل و انصاف میں کسی کی رُو رِعایت نہیں فرماتے اس لئے وہ حضور کے فیصلہ پر تو راضی نہ ہوا اور کعب بن اشرف یہودی سے فیصلہ کرانے پر مُصِر ہوا اور حضور کی نسبت کہنے لگا کہ وہ ہم پر ظلم کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی۔ (خزائن العرفان، پ۱۸، النور:۴۸ تا ۵۰)
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فیصلہ نہ ماننے کا انجام:
امام حکیم ترمذی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِینے حضرت مکحولرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے ایک