Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
16 - 56
 ہے۔ چنانچہ، ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
وَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَی اللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیۡنَہُمْ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنْہُمۡ مُّعْرِضُوۡنَ ﴿۴۸﴾ وَ اِنۡ یَّکُنۡ لَّہُمُ الْحَقُّ یَاۡتُوۡۤا اِلَیۡہِ مُذْعِنِیۡنَ ﴿ؕ۴۹﴾ اَفِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوۡۤا اَمْ یَخَافُوۡنَ اَنۡ یَّحِیۡفَ اللہُ عَلَیۡہِمْ وَ رَسُوۡلُہٗ ؕ بَلْ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾ (پ۱۸، النور:۴۸ تا ۵۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جب بلائے جائیں اللہ اور اسکے رسول کی طرف کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو جبھی ان کا ایک فریق منہ پھیر جاتا ہے ۔ اور اگر انکی ڈگری ہو (انکے حق میں فیصلہ ہو) تو اسکی طرف آئیں مانتے ہوئے۔ کیا انکے دلوں میں بیماری ہے یا شک رکھتے ہیں یا یہ ڈرتے ہیں کہ اللہ و رسول ان پر ظلم کریں گے بلکہ وہ خود ہی ظالم ہیں۔ 
پس کفر و نفاق کی تاریک وادیوں میں بھٹکنے والے لوگ کبھی پسند نہیں کرتے کہ ان کا فیصلہ قرآن وسنت کے مطابق کیا جائے۔ کیونکہ انہیں یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ اگر قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ ہوا تو یقینا سچ پر مبنی ہو گا اور حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی اور اس طرح جھوٹ کا پردہ فاش ہونے سے ان کی جگ ہنسائی ہو گی۔ چنانچہ، 
صدر الافاضل، حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’خزائن العرفان‘‘ میں ان آیاتِ مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے