Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
15 - 56
 ہوں۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَوْ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسْتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنْہُمْ ؕ   (پ۵، النساء:۸۳)      
ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرف رجوع لاتے تو ضرور ان سے اُس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں۔ 
پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ قرآن و سنت سے مسائل کا حل تلاش کرنا صرف انہی لوگوں کا کام ہے جو اس کے اہل ہیں۔ اور جب حل مل جائے تو قیل وقال نہ کیجئے بلکہ سرتسلیم خم کر دیجئے۔ چنانچہ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:  اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَی اللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیۡنَہُمْ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿۵۱﴾  (پ۱۸، النور:۵۱)
ترجمۂ کنز الایمان: مسلمانوں کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو عرض کریں ہم نے سنا اور حکم مانا او ریہی لوگ مراد کو پہنچے۔ 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب قرآنِ کریم اور سنتِ رسولِ کریم سے جھگڑے کا حل مل جائے تو اسے مان لینا حقیقی مسلمان ہونے کی علامت ہے اور جو لوگ قرآن و سنت کے فیصلوں سے انحراف کرتے ہیں ان کے دلوں میں نفاق پایا جاتا