اس وقت لوگ عموماً کسی اہم فرد (خواہ وہ کسی گھر یا قبیلے کا سربراہ ہو یا کسی ادارے یا تنظیم کا بڑا ذمہ دار) کی طرف رجوع کرتے ہیں اور پھر اس فرد کو فیصلہ کرنے کی اہم ذمہ داری ادا کرنا پڑتی ہے۔ یہ ذمہ داری اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ایسا معاملہ کسی دینی تنظیم کے ذمہ دار کے ہاں پیش ہوتا ہے کہ اس سے اگر کوئی غلط فیصلہ سرزد ہوگیا تو طرفین میں سے دونوں یا ایک بدظن ہو کر اس ذمہ دار … اور حماقت کی رفاقت ہوئی تو تنظیم … بلکہ شقاوت کی نحوست بھی ساتھ ہوئی تو دین سے دور ہوکر پھر سے گناہوں بھرے گندے ماحول میں پڑ سکتا ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
آدابِ فیصلہ
لہذا حَکَم (یعنی فیصلہ کرنے والے) کیلئے نہایت ضروری ہے کہ وہ فیصلہ کرنے کے لئے ضروری شرعی آداب جانتا ہو، جنہیں پیشِ نظر رکھ کر انتہائی حکمتِ عملی سے فیصلہ کرے۔ چنانچہ، ذیل میں فیصلہ کرنے کے کچھ آداب بیان کئے جاتے ہیں۔
{1} علمائے کرام کی خدمت میں حاضر ہوں
دو اسلامی بھائیوں میں کسی قسم کا نزاع واقع ہو تو انہیں چاہئے کہ نزاع کا شرعی حل تلاش کرنے کے لئے علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکی خدمت میں حاضر