Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
11 - 56
جان دیدی، منصبِ قضا قبول نہ کیا
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 36 صفحات پر مشتمل رسالے، ’’اشکوں کی برسات‘‘ صَفْحَہ 27  پر شیخ طریقت، امیر اہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: عباسی خلیفہ منصور نے امام اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کیا کہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میری مملکت کے قَاضِیُ القُضاۃ (یعنی چیف جج) بن جائیے۔ فرمایا: میں اس عہدے کے قابل نہیں۔ منصور بولا: آپ جھوٹ کہتے ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: اگر میں جھوٹ بولتا ہوں تو آپ نے خود ہی فیصلہ کر دیا! جھوٹا شخص قاضی بننے کے لائق ہی نہیں ہوتا۔ خلیفہ منصور نے اس بات کو اپنی توہین تصور کرتے ہوئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جیل بھجوا دیا۔ روزانہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سرِ مبارک پر دس کوڑے مارے جاتے جس سے خون سرِ اقدس سے بہہ کر ٹَخنوں تک آجاتا، اس طرح مجبور کیا جاتا رہا کہ قاضی بننے کیلئے حامی بھر لیں مگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حکومتی عہدہ قبول کرنے کیلئے راضی نہ ہوئے۔ اسی طرح آپ کو یومیہ دس کے حساب سے ایک سو دس کوڑے مارے گئے۔ لوگوں کی ہمدردیاں امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ تھیں۔ بالآخر دھوکے سے زہر کا پیالہ پیش کیا گیا مگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مومنانہ فراست سے