جواب حضرت سَیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورنبیِ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جُمُعَہ کے دن نہائے ، جس طَہَارت کی اِستطاعت ہو کرے ، تیل لگائے ، گھر میں جو خوشبو ہو مَلے پھر نماز کے لیے نکلے ، دو شخصوں میں جدائی نہ کرے ( یعنی دوشخص بیٹھے ہوئے ہوں انہيں ہٹا کر بیچ میں نہ بیٹھے ) ، جو نماز اس کے ليے لکھی گئی ہے پڑھے اور امام جب خطبہ پڑھے تو چُپ رہے اُس کے اِس جُمُعَہ اور دوسرے جُمُعَہ کے درمیان ہونے والے گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی ۔ (1)
سوال نمازِ جُمُعَہ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنے والے کے لیے کیا وعید ہے ؟
جواب حدیثِ مبارک میں ہے کہ جس نے جُمُعَہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اس نے جہنّم کی طرف پُل بنایا (2) ۔ (3)
سوال کونسے مریض اور تیمار دار پر جُمُعَہ فرض نہیں؟
جواب مریض پر جُمُعَہ فرض نہیں ، مریض سے مراد وہ ہے کہ مسجد تک نہ جاسکتا ہو یا چلا تو جائے گا مگر مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھا ہوگا ۔ (4) جو شخص مریض کا
________________________________
1 - بخاری ، کتاب الجمعة ، باب الدھن للجمعة ، ۱ / ۳۰۶ ، حدیث : ۸۸۳ ۔
2 - حدیث میں لفظ اتَّخذَ جِسْرًا واقع ہو اہے اس کو معروف و مجہول ( یعنی اِتَّخَذَ اور اُتُّخِذَ) دونوں طرح پڑھتے ہیں اور یہ ترجمہ معروف کا ہے اور مجہول پڑھیں تو مطلب یہ ہوگا کہ خودپُل بنا دیا جائے گا یعنی جس طرح لوگوں کی گردنیں اس نے پھلانگی ہیں ، اس کو قیامت کے دن جہنّم میں جانے کا پُل بنایا جائے گا کہ اس کے اوپر چڑھ کر لوگ جائیں گے ۔ ( بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ / ۷۶۱)
3 - ترمذی ، کتاب الجمعة ، باب ماجاء فی کراھیة التخطی یوم الجمعة ، ۲ / ۴۸ ، حدیث : ۵۱۳ ۔
4 - غنیۃ المتملی ، فصل فی صلاة الجمعة ، ص۵۴۸ ۔