تیماردار ہو ، ( اگر وہ) جانتا ہے کہ جُمُعَہ کو جائے گا تو مریض دِقتوں میں پڑجائے گا اور اس کا کوئی پُرسانِ حال نہ ہوگا تو اُس تیماردار پر جُمُعَہ فرض نہیں ۔ (1)
سوال کس نابینا پر جُمُعَہ فرض ہے اور کس پر نہیں؟
جواب وہ نابینا جو خود مسجدِ جُمُعَہ تک بلا تکلّف نہ جا سکتا ہو اس پر جُمُعَہ فرض نہیں ۔ بعض نابینا بلا تکلّف بغیر کسی کی مدد کے بازاروں راستوں میں چلتے پِھرتے ہیں اور جس مسجد میں چاہیں بِلا پُوچھے جاسکتے ہیں ان پر جُمُعَہ فرض ہے ۔ (2)
سوال جُمُعَہ فرض نہ ہونے کے باوجود پڑھ لینا کیسا ہے ؟
جواب جُمُعَہ واجب ہونے کے ليے گیارہ شرطیں ہیں (3) ان میں سے ایک بھی نہ پائی جائے تو فرض نہیں پھر بھی اگر پڑھے گا تو ہوجائے گا بلکہ مرد عاقل بالغ کے ليے جُمُعَہ پڑھنا افضل ہے اور عورت کے ليے ظہر افضل اور نابالغ نے جُمُعَہ پڑھا تو نفل ہے کہ اس پر نماز فرض ہی نہیں ۔ (4)
سوال خطبہ سننے والوں کے لیے کیا احکام وآداب ہیں ؟
جواب سننے والا اگر امام کے سامنے ہو تو امام کی طرف منہ کرے اور دہنے بائیں ہو تو امام کی طرف مُڑ جائے ، امام سے قریب ہونا افضل ہے مگر یہ جائز نہیں کہ امام سے قریب ہونے کے ليے لوگوں کی گردنیں پھلانگے ، البتہ اگر امام ابھی خطبہ
________________________________
1 - درمختار ، کتاب الصلاة ، باب الجمعة ، ۳ / ۳۱ ، بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ / ۷۷۰ ۔
2 - در مختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب الجمعة ، مطلب فی شروط وجوب الجمعة ، ۳ / ۳۲ ۔
3 - جمعہ واجب ہونے کی یہ شرائط دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب بہارشریعت جلداول ، صفحہ 770تا772پراور ”دلچسپ معلومات“حصہ اول ، صفحہ 84 پر ملاحظہ فرمائیے ۔
4 - درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب الجمعة ، مطلب فی شروط وجوب الجمعة ، ۳ / ۳۰ ، ۳۳ ۔