رہے ! جگانا یا یاد دلانا اُس وقت واجب ہوگا جبکہ ظنِّ غالب ہو کہ یہ نماز پڑھے گا ورنہ واجب نہیں ۔ (1)
سوال جس شخص کے ذمے بہت زیادہ نمازیں ہوں شریعت مطہرہ میں اس کیلئے کوئی آسانی کی صورت ہو تو بتائیے ؟
جواب جس پر بکثرت قضا نمازیں ہوں وہ آسانی کے لیے ہررکوع اور سجدہ میں ’’سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم‘‘اور’’سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی‘‘صرف ایک بار کہے اور فرضوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں اَلْحَمْدُ شریف کی جگہ فقط ”سُبْحٰنَ اللہ“تین بار کہہ کر رکوع کرلے ، تیسری تخفیف یہ کہ قعدۂ اخیرہ میں اَلتَّحِیَّات کے بعد دونوں درودوں اور دعا کی جگہ صرف ’’اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ‘‘ کہہ کر سلام پھیر دے چوتھی تخفیف یہ کہ وتر کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت کی جگہ فقط ایک یا تین بار ’’رَبِّ اغْفِرْ لِیْ‘‘ کہے ۔ (2)
سوال اگر فجر کی سنتیں قضا ہوجائیں تو ان کو کب پڑھا جائے ؟
جواب فجر کی سنت قضا ہوگئی اور فرض پڑھ ليے تو اب سنتوں کی قضا نہیں البتہ امام محمد رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰی فرماتے ہیں کہ طلوعِ آفتاب کے بعد پڑھ لے تو بہتر ہے ۔ (3) اور طلوع سے پیشتر ( یعنی سورج نکلنے سے پہلے ) بالاتفاق ممنوع ہے ۔ (4) آج کل اکثر
________________________________
1 - نماز کے احکام ، ص۳۳۲ ۔
2 - نماز کے احکام ، ص۳۳۸-۳۳۹ ، ملتقطاً ۔
3 - غنية المتملی ، فصل فی النوافل ، ص۳۹۷ ۔
4 - ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب الوتر والنوافل ، ۲ / ۵۵۰ ۔