اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکم فرمایا ، انہوں نے اذان و اقامت کہی ، حضورنبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ظہر کی نماز پڑھی ، پھر اقامت کہی تو عصر پڑھی ، پھر اقامت کہی تو مغرب پڑھی ، پھر اقامت کہی تو عشاپڑھی ۔ (1)
سوال قضا نمازوں کے گناہ سے توبہ کے لیے کیا چیز ضروری ہے ؟
جواب بہارشریعت ، جلد۱ ، صفحہ۷۰۰پرمذکورحکم کا خلاصہ ہے : توبہ اسی وقت صحیح ہے جب قضا بھی پڑھ لے ۔ قضا نمازوں کو تو ادا نہ کرے فقط توبہ کئے جائے تو یہ توبہ نہیں ہے کیونکہ وہ نماز جو اس کے ذمہ تھی اس کا نہ پڑھنا تو اب بھی باقی ہے ۔ جب گناہ سے ہی باز نہ آیاتو پھر توبہ کہاں ہوئی ۔ (2)
سوال کون سی نمازوں میں وقت کے اندر اندر سلام پھرلینا ضروری ہے ؟
جواب فجر ، جمعہ اورعید ین کی نمازوں میں سلام سے پہلے اگر وقت نکل گیا تو نماز نہ ہوگی ان کے علاوہ نمازوں میں اگر وقت میں تحریمہ باندھ لیا تو نماز قضا نہ ہوئی بلکہ ادا ہے ۔ (3)
سوال کس صورت میں سوئے ہوئے شخص کو جگا دینا واجب ہے ؟
جواب کوئی سو رہا ہے یا نماز پڑھنا بھول گیا ہے تو جسے معلوم ہے اس پر واجب ہے کہ سو تے کو جگا دے اور بھولے ہوئے کو یاد دلا دے ۔ (4) ( ورنہ گنہگار ہوگا) یاد
________________________________
1 - سنن کبری للبیھقی ، کتاب الصلاة ، باب الاذان والاقامة للجمع ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۵۹۲ ، حدیث : ۱۸۹۲ ۔
2 - ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب قضاء الفوائت ، ۲ / ۶۲۷ ۔
3 - درمختار ، کتاب الصلاة ، باب قضاء الفوائت ، ۲ / ۶۲۸ ، ماخوذ از بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ / ۷۰۱ ۔
4 - بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ / ۷۰۱ ۔