سَیِّدی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزْت فرماتے ہیں : جب وہ ایک پارہ پڑھ چکتا ہے شیطان کہتا ہے اب شاید رک جائے نہ پڑھے ۔ جب دوسرا پارہ ختم کرتا ہے تو کہتا ہے اب شاید نہ پڑھے ۔ اسی طرح ہر پارہ پر کہتا ہے ، یہاں تک کہ جب تیسوں پارے ختم ہوجاتے ہیں کہتا ہے اب نہ پڑھے گا اب ختم کرچکا ۔ پھر” اَلْمُفْلِحُوۡنَ“ تک پڑھتا ہے ۔ کہتا ہے : یہ نہ مانے گا پڑھتا ہی رہے گا ۔ مایوس ہوجاتا ہے ، اس کی امید ٹوٹ جاتی ہے ۔ (1)
سوال ایک ہی حافظ صاحب کا دو مسجدوں میں تراویح پڑھانا کیسا ہے ؟
جواب ایک امام دو مسجدوں میں تراویح پڑھاتا ہے اگر دونوں میں پوری پوری پڑھائے تو ناجائز ہے اور اگر گھر میں تراویح پڑھ کر مسجد میں آیا اور امامت کی تو مکروہ ہے ۔ (2)
سوال امام کے سلام پھیرنے کے بعدرکعتوں کی تعداد میں شک ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟
جواب سلام پھیرنے کے بعد کوئی کہتا ہے دو ہوئیں کوئی کہتا ہے تین تو امام کے علم میں جو ہو اُس کا اعتبار ہے اور امام کو کسی بات کا یقین نہ ہو تو جس کو سچا جانتا ہو اُس کے قول پراعتبار کرے ۔ اگر اس میں لوگوں کو شک ہو کہ بیس ہوئیں یا اٹھارہ تو دو رَکعت تنہا تنہا پڑھیں ۔ (3)
سوال قعدہ میں سوگیا اور امام اگلی دو رکعتوں کے قعدہ میں پہنچ گیاتو اب کیاحکم ہے ؟
________________________________
1 - ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص۵۲۴ ۔
2 - فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب التاسع فی النوافل ، فصل فی تراویح ، ۱ / ۱۱۶ ۔
3 - فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب التاسع فی النوافل ، فصل فی تراویح ، ۱ / ۱۱۷ ۔