کم سے کم مد کا جو درجہ قاریوں نے رکھا ہے اس کو ادا کرے ، ورنہ حرام ہے اس ليے کہ تَرتِیل سے قرآن پڑھنے کا حکم ہے ۔ آج کل کے اکثر حُفّاظ اس طرح پڑھتے ہیں کہ مد کا ادا ہونا تو بڑی بات ہے یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَکے سوا کسی لفظ کا پتہ بھی نہیں چلتا نہ تصحیحِ حُروف ہوتی ، بلکہ جلدی میں لفظ کے لفظ کھا جاتے ہیں اور اس پر تَفَاخُر ہوتا ہے کہ فلاں اس قدر جلد پڑھتا ہے ، حالانکہ اس طرح قرآنِ مجید پڑھنا حرام و سخت حرام ہے ۔ (1)
سوال ستائیسویں شب کو ختمِ قرآن کے لیے ہر رکعت میں کتنی تلاوت کی جائے ؟
جواب مُجَدِّدِ اعظم ، اعلیٰ حضرت ، شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : رُکوع جاری ہوئے آٹھ سو برس ہوئے ۔ مشائخِ کرام نے اَلْحَمْد شریف کے بعد پانچ سو چالیس ( ركوع) رکھے کہ تراویح کی ہر رکعت میں ایک رکوع پڑھے تو ستائيسویں شب میں کہ شبِ قدر ہے ختم ہو ۔ (2)
سوال ختمِ قرآن میں سورۂ بقرہ کی ابتدائی پانچ آیات کیوں پڑھی جاتی ہیں ؟
جواب بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی : اللہ عَزَّ وَجَلَّکوسب سے محبوب عمل کیاہے ؟ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : منزل پر پہنچنا اور کوچ کرنا ۔ عرض کی : منزل پر پہنچنااور کوچ کرنا کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : یہ کہ بندہ قرآنِ کریم کو شروع سے آخر تک پڑھے اورہر بار ختم کرتے ہی پھر شروع کر دے ۔ (3)
________________________________
1 - درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ، ۲ / ۳۲۰ ، بہار شریعت ، حصہ۳ ، ۱ / ۵۴۷ ۔
2 - ملفوظات اعلیٰ حضرت ، ص۱۴۹ ۔
3 - ترمذی ، کتاب القراءات ، باب۱۱ ، ۴ / ۴۳۷ ، حدیث : ۲۹۵۷ ۔