Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
88 - 360
کم سے کم مد کا جو درجہ قاریوں نے رکھا ہے اس کو ادا کرے ، ورنہ حرام ہے اس ليے کہ تَرتِیل سے قرآن پڑھنے کا حکم ہے ۔  آج کل کے اکثر حُفّاظ اس طرح پڑھتے ہیں کہ مد کا ادا ہونا تو بڑی بات ہے یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَکے سوا کسی لفظ کا پتہ بھی نہیں چلتا نہ تصحیحِ حُروف ہوتی ، بلکہ جلدی میں لفظ کے لفظ کھا جاتے ہیں اور اس پر تَفَاخُر ہوتا ہے کہ فلاں اس قدر جلد پڑھتا ہے ، حالانکہ اس طرح قرآنِ مجید پڑھنا حرام و سخت حرام ہے ۔  (1) 
سوال	ستائیسویں شب کو ختمِ قرآن کے لیے ہر رکعت میں کتنی تلاوت کی جائے ؟ 
جواب	مُجَدِّدِ اعظم ، اعلیٰ حضرت ، شاہ  امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :  رُکوع جاری ہوئے آٹھ سو برس ہوئے ۔ مشائخِ کرام نے اَلْحَمْد شریف کے بعد پانچ سو چالیس (  ركوع) رکھے کہ تراویح کی ہر رکعت میں ایک رکوع پڑھے تو ستائيسویں شب میں کہ شبِ قدر ہے ختم ہو ۔  (2) 
سوال	 ختمِ قرآن  میں سورۂ بقرہ کی ابتدائی پانچ آیات کیوں پڑھی جاتی ہیں ؟ 
جواب	بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی :  اللہ عَزَّ  وَجَلَّکوسب سے محبوب عمل کیاہے ؟ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  منزل پر پہنچنا اور کوچ کرنا ۔  عرض کی  :  منزل پر پہنچنااور کوچ کرنا کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : یہ کہ بندہ قرآنِ کریم کو شروع سے آخر تک  پڑھے اورہر بار ختم کرتے ہی پھر شروع کر دے ۔  (3) 



________________________________
1 -     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ، ۲ /  ۳۲۰ ، بہار شریعت ، حصہ۳ ، ۱ /  ۵۴۷ ۔ 
2 -     ملفوظات اعلیٰ حضرت ، ص۱۴۹ ۔ 
3 -     ترمذی ، کتاب القراءات ، باب۱۱ ، ۴ /  ۴۳۷ ، حدیث : ۲۹۵۷ ۔