ہیں ، فقط ان کے درمیان ، بعدمیں مکروہ نہیں ( 11) فرض کا وقت تنگ ہو تو ہر نماز یہاں تک کہ سُنّتِ فجر و ظہر مکروہ ہے ( 12) جس بات سے دل بٹے اور دفع کر سکتا ہو اسے بے دفع کیے ہر نماز مکروہ ہے ، کوئی ایسا امر درپیش ہو جس سے دل بٹے خُشُوع میں فرق آئے ان وقتوں میں بھی نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔ (1)
تراویح
سوال کیسے حافظ صاحب کوامام بنانا چاہئے ؟
جواب خوش خوان ( یعنی محض اچھی آواز والے ) کو امام نہ بنانا چاہئے بلکہ درست خوان ( صحیح پڑھنے والے ) کوبنائیں ۔ (2) افسوس صد افسوس کہ اس زمانہ میں حُفّاظ کی حالت نہایت ناگفتہ بِہ ہے ، اکثر تو ایسا پڑھتے ہیں کہ یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ کے سوا کچھ پتہ نہیں چلتا الفاظ و حروف کھا جایا کرتے ہیں جو اچھا پڑھنے والے کہے جاتے ہیں اُنہیں دیکھئے تو حروف صحیح نہیں ادا کرتے ہمزہ ، الف ، عین اور ذ ، ز ، ظ اورث ، س ، ص ، ت ، ط وغیرہ حروف میں فرق نہیں کرتے جس سے قطعاً نماز ہی نہیں ہوتی ۔ (3)
سوال تراویح میں امام صاحب کو کس طرح تلاوت کرنی چاہئے ؟
جواب تراویح میں مُتَوسِّط انداز پر قراء ت کرے مگر ایسا پڑھے کہ سمجھ میں آسکے یعنی
________________________________
1 - فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الاول فی المواقیت ، ۱ / ۵۲ ، ۵۳ ۔
درمختار ، کتاب الصلاة ، ۲ / ۴۶ ۔ ۵۰ ، بہار شریعت ، حصہ۳ ، ۱ / ۴۵۵ -۴۵۷ ۔
2 - فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب التاسع فی النوافل ، فصل فی تراویح ، ۱ / ۱۱۶ ۔
3 - بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ / ۶۹۱ ۔