Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
86 - 360
سوال	کب کب نوافل پڑھنا مستحب ہے ؟ 
جواب	جب  تیز آندھی آئے یا دن میں سخت تاریکی چھا جائے یا رات میں خوفناک روشنی ہو یا لگاتار کثرت سے بارِش برسے یا بکثرت اَولے پڑیں یا آسمان سُرخ ہو جائے یا بجلیاں گریں يابکثرت تارے ٹوٹیں یا طاعون وغیرہ وبا پھیلے یا زلزلے آئیں یادشمن کا خوف ہو یا اورکوئی دَہشت ناک اَمر پایا جائے ان سب کے لیے دو رَکعت نَما زمُستَحَب ہے ۔  (1) 
سوال	کونسے اوقات میں نوافل پڑھنا منع ہے ؟ 
جواب	بارہ وقتوں میں نوافل پڑھنا منع ہے :  (  1) طُلوعِ فجر سے طلوع آفتا ب تک  (  2) اپنے مذہب  (  مثلا فقہِ حنفی والوں) کی جماعت کے ليے اِقامت ہوئی تو اِقامت سے ختمِ جماعت تک]البتہ اگر نمازِ فجر قائم ہو چکی اور جانتا ہے کہ سُنّت پڑھے گا جب بھی جماعت مل جائے گی اگرچہ قعدہ میں شرکت ہو گی تو حکم ہے کہ جماعت سے الگ اور دور سنتِ فجر پڑھ کر شریک ِجماعت ہو[ (  3) نمازِ عصر سے آفتاب زرد ہونے تک  (  4) غُروبِ آفتاب سے فرضِ مغرب تک (  5) جس وقت امام اپنی جگہ سے خطبۂ جُمُعَہ کے ليے کھڑا ہوا اس وقت سے فرضِ جُمُعَہ ختم ہونے تک  (  6) عین خطبہ کے وقت اگرچہ جمعہ کا ہو یا خطبۂ عِیدَین یا کُسُوف واِسْتِسْقا و حج و نکاح کا (  7) نمازِ عِیدَین سے پہلے  (  8) نما زِعِیدَین کے بعد جب کہ عید گاہ یا مسجد میں پڑھے ، گھرمیں پڑھنا مکروہ نہیں (  9) عَرَفات میں جو ظہر و عصر ملا کر پڑھتے ہیں ، ان کے درمیان اور بعد میں بھی (  10) مُزْدَلفہ میں جو مغرب و عشا جمع کیے جاتے



________________________________
1 -     فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الثامن عشر فی صلاة الکسوف ، ۱ /  ۱۵۳ ۔