کہ اگر تم سے ہو سکے کہ ہر روز ایک بار پڑھو تو کرو اور اگر روز نہ کرو تو ہر جمعہ میں ایک بار اور یہ بھی نہ کرو تو ہر مہینہ میں ایک بار اور يہ بھی نہ کرو تو سال میں ايک بار اور یہ بھی نہ کرو تو عمر میں ایک بارضرورپڑھو ۔ (1)
سوال صلوٰۃُ التسبیح ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟
جواب اِس نَماز کی ترکیب یہ ہے کہ تکبیرِ تحریمہ کے بعد ثنا پڑھے ، پھر پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھے سُبْحٰنَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكْبَر ، پھرسورۂ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ کر رُکوع سے پہلے دس باریہی تسبیح پڑھے پھر رُکوع کرے اور رُکوع میں سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم تین بار پڑھ کر پھر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے ، پھر رُکوع سے سر اٹھائے اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ ۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الحَمْد کے بعد پھر کھڑے کھڑے دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے ، پھر سجدے میں جائے اورسُبحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی تین بار پڑھ کرپھردس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے پھر سجدے سے سر اُٹھائے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے ، پھر دوسرے سجدے میں جائے اور پہلے کی طرحسُبحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی تین بار پڑھ کر یہی تسبیح دس مرتبہ پڑھے ، اسی طرح چار رَکعت پڑھے اور خیال رہے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں سورۂ فاتحہ سے پہلے پندرہ مرتبہ اورباقی سب جگہ یہ تسبیح دس دس بارپڑھے یوں ہر رکعت میں75 مرتبہ تسبیح پڑھی جائے گی اور چار رَکعتوں میں تسبیح کی گنتی تین سو مرتبہ ہوگی ۔ (2)
________________________________
1 - ابن ماجہ ، کتاب اقامة الصلاة ، باب ماجاء فی صلاة التسبیح ، ۲ / ۱۵۸ ، حدیث : ۱۳۸۷ ۔
غنیۃ المتملی ، صلاة التسبیح ، ص۴۳۱ ، بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ / ۶۸۳ ۔
2 - ترمذی ، کتاب الوتر ، باب ماجاء فی صلاة التسبیح ، ۲ / ۲۴ ، حدیث : ۴۸۱ ، غنیۃ المتملی ، صلاة التسبیح ، ص۴۳۱ ۔