میری شفاعت نہ ملے گی ۔ “ سنّتِ مؤکّدہ کو سُنَنُ الْہُدیٰ بھی کہتے ہیں ۔ (1)
سوال تاکید کے اعتبار سے سنتِ مؤکّدہ کے درجات بیان کیجئے ؟
جواب سب سنتوں میں قوی تر سنّتِ فجر ہے ، یہاں تک کہ بعض اس کو واجب کہتے ہیں ۔ سنتِ فجر کے بعد مغرب کی سُنّتوں کا درجہ ہے ، پھر ظہرکے بعد کی ، پھر عشا کے بعد کی ، پھر ظہر سے پہلے کی سنتیں ہیں اورزیادہ صحیح قول کے مطابق سُنّتِ فجر کے بعد ظُہر کی پہلی سنتوں کا مرتبہ ہے کہ حدیث میں خاص ان کے بارے میں فرمایا کہ جو ان کو ترک کرے گااُسے میری شفاعت نہ پہنچے گی ۔ (2)
سوال فجر کی سنتوں میں کونسی سورتیں پڑھنا سُنّت ہے ؟
جواب سُنَّتِ فجر کی پہلی رَکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ( سورۂ کافِرون) اور دوسری میں قُلْ ھُوَ اللّٰہ پڑھناسُنّت ہے ۔ (3)
سوال ظہر کی سنتیں اور نوافِل ادا کرنے کی کیا فضیلت ہے ؟
جواب حدیثِ پاک میں ہے : جس نے ظہر سے پہلے چاراور بعد میں چار ( رکعات) پر مُحافظت کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے دوزخ پر حرام فرما دے گا ۔ (4) حضرت سَیِّدُنا علامہ ابنِ عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِیفرماتے ہیں : ایسے شخص کے لیے
________________________________
1 - ماخوذ ازبہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ / ۶۶۲ ۔
2 - درمختار ، کتاب الصلاة ، باب الوتر والنوافل ، ۲ / ۵۴۸ ۔
فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب التاسع فی النوافل ، ۱ / ۱۱۲ ، بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ / ۶۶۳ملخصاً ۔
3 - مسلم ، کتاب صلاة المسافرین وقصرھا ، باب استحباب رکعتی سنة الفجر ۔ ۔ ۔ الخ ، ص۲۸۶ ، حدیث : ۱۶۹۰ ۔
4 - نسائی ، کتاب قیام اللیل وتطوع النھار ، باب الاختلاف علی اسماعیل بن ابی خالد ، ص۳۱۰ ، حدیث : ۱۸۱۳ ۔