ہو کہ لوگ اس کی تقصیروکوتاہی پر مطلع ہوں گے ۔ (1)
سوال اگر بھول کر وِتْر کی پہلی یا دوسری رکعت میں دعائے قُنوت پڑھ لی تو کیا حکم ہے ؟
جواب بھول کر پہلی یا دوسری میں دعائے قُنوت پڑھ لی تو تیسری میں پھر پڑھے یہی راجِح ہے ۔ (2)
سوال عشاء سے پہلے وِتْر پڑھ لیے تو کس صورت میں ہوجائیں گے ؟
جواب عشاء سے پہلے وِتْر پڑھے تو نہیں ہوں گے ، ہاں اگر بھول کر وِتْر پہلے پڑھ ليے تو ہوگئے ۔ (3)
سنتیں اور نوافل
سوال سنتِ مؤکّدہ سے کیا مراد ہے اور اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب جن سنتوں پر شریعت میں تاکید آئی ہے انہیں سنتِ مؤکّدہ کہتے ہیں ، جو بغیر عذر ایک بار بھی ترک کرے وہ ملامت کا مستحق ہے اورترک کی عادت بنائے تو فاسق ہے ، اُس کی گواہی قبول نہیں اور وہ جہنم کاحق دار ہے اوربعض علما کے نزدیک گمراہ اور گنہگار ہے ، اگرچہ اس کا گناہ واجب کے ترک سے کم ہے ۔ تلویح میں ہے کہ اس کا ترک حرام کے قریب ہے اورترک کرنے والا اِس کامستحق ہے کہ مَعَاذَاللہ ! شفاعت سے محروم ہو جائے کیونکہ حضور اَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ”جو میری سنّت کو ترک کرے گا اسے
________________________________
1 - ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب الوتر والنوافل ، ۲ / ۵۳۳ ۔
2 - غنیۃ المتملی ، صلاة الوتر ، ص۴۲۴ ۔
3 - درمختار ، کتاب الصلاة ، ۲ / ۲۳ ۔