Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
69 - 360
 ذریعہ  تووہاں نماز میں منہ کس طرف کیا جائے ؟ 
جواب 	ایسی جگہ نماز پڑھنے والے کے لیے حکم ہے کہ تَحَرِّی کرے (  یعنی سوچے جِدھر قبلہ ہونا دل پر جمے اُدھر ہی منہ کرے ) اس کے حق میں وہی قبلہ ہے ۔  (1) 
سوال 	جہتِ کعبہ کی طرف منہ ہونے سے کیا مراد ہے ؟ 
جواب	جہتِ کعبہ کی طرف منہ ہونے کے یہ معنیٰ ہیں کہ چہرے کی سطح کا کوئی جُز کعبہ کی سَمْت میں واقع ہو ۔  اس کی مقدار 45 درجے  (  45°) رکھی گئی ہے  لہٰذا اگر کوئی 45 درجے سے زیادہ قبلہ سے پِھرا تو نماز نہیں ہوگی  ۔  (2) 
سوال 	کس شخص کے لئے نماز میں عین کعبہ کی طرف منہ کرنا فرض ہے ؟ 
جواب 	جو عین کعبہ کی سَمْت خاص تحقیق کر سکتا ہے ، اگرچہ کعبہ آڑ میں ہو ، جیسے مکّۂ معظّمہ کے مکانوں میں جب کہ مثلاً چھت پر چڑھ کر کعبہ کو دیکھ سکتے ہیں تو عین کعبہ کی طرف منہ کرنا فرض ہے ، جہت کافی نہیں اور جسے یہ تحقیق ناممکن ہو ، اگرچہ خاص مکّۂ معظّمہ میں ہواس کے ليے جہتِ کعبہ کو منہ کرناکافی ہے ۔  (3) 
سوال 	نماز میں مردو عورت کے جسم کا کتنا حصہ سَترِعورت میں شامل ہے ؟ 
جواب	مرد کے ليے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تک سَترِ عورت ہے ۔  ناف اس میں داخل نہیں اور گھٹنے داخل ہیں ۔  (4) اور عورت کے لیے سوائے منہ کی ٹکلی



________________________________
1 -     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، مطلب مسائل التحری فی القبلة ، ۲ /  ۱۴۳ ۔ 
2 -     درمختار مع رد المحتار ، کتاب الصلاة ، ۲ /  ۱۳۵ ، بہار شریعت ، حصہ۳ ، ۱ /  ۴۸۷ ۔ 
3 -     بہار شریعت ، حصہ۳ ، ۱ /  ۴۸۷ ۔ 
4 -     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب شروط الصلاة ، مطلب فی ستر العورة ، ۲ /  ۹۳ ۔