ذریعہ تووہاں نماز میں منہ کس طرف کیا جائے ؟
جواب ایسی جگہ نماز پڑھنے والے کے لیے حکم ہے کہ تَحَرِّی کرے ( یعنی سوچے جِدھر قبلہ ہونا دل پر جمے اُدھر ہی منہ کرے ) اس کے حق میں وہی قبلہ ہے ۔ (1)
سوال جہتِ کعبہ کی طرف منہ ہونے سے کیا مراد ہے ؟
جواب جہتِ کعبہ کی طرف منہ ہونے کے یہ معنیٰ ہیں کہ چہرے کی سطح کا کوئی جُز کعبہ کی سَمْت میں واقع ہو ۔ اس کی مقدار 45 درجے ( 45°) رکھی گئی ہے لہٰذا اگر کوئی 45 درجے سے زیادہ قبلہ سے پِھرا تو نماز نہیں ہوگی ۔ (2)
سوال کس شخص کے لئے نماز میں عین کعبہ کی طرف منہ کرنا فرض ہے ؟
جواب جو عین کعبہ کی سَمْت خاص تحقیق کر سکتا ہے ، اگرچہ کعبہ آڑ میں ہو ، جیسے مکّۂ معظّمہ کے مکانوں میں جب کہ مثلاً چھت پر چڑھ کر کعبہ کو دیکھ سکتے ہیں تو عین کعبہ کی طرف منہ کرنا فرض ہے ، جہت کافی نہیں اور جسے یہ تحقیق ناممکن ہو ، اگرچہ خاص مکّۂ معظّمہ میں ہواس کے ليے جہتِ کعبہ کو منہ کرناکافی ہے ۔ (3)
سوال نماز میں مردو عورت کے جسم کا کتنا حصہ سَترِعورت میں شامل ہے ؟
جواب مرد کے ليے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تک سَترِ عورت ہے ۔ ناف اس میں داخل نہیں اور گھٹنے داخل ہیں ۔ (4) اور عورت کے لیے سوائے منہ کی ٹکلی
________________________________
1 - درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، مطلب مسائل التحری فی القبلة ، ۲ / ۱۴۳ ۔
2 - درمختار مع رد المحتار ، کتاب الصلاة ، ۲ / ۱۳۵ ، بہار شریعت ، حصہ۳ ، ۱ / ۴۸۷ ۔
3 - بہار شریعت ، حصہ۳ ، ۱ / ۴۸۷ ۔
4 - درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب شروط الصلاة ، مطلب فی ستر العورة ، ۲ / ۹۳ ۔