کسی ضرورت کے لئے یہ مباح ( یعنی بلا کراہت جائز) ہے ۔ (1)
سوال اس کی کیا صورت ہے کہ دوشخص نماز میں اس طرح روئے کہ حُروف پیدا ہوئے مگر اس کے سبب ایک کی نماز فاسد ہوگئی اور دوسرے کی نہیں ہوئی؟
جواب ایک شخص درد اور مصیبت کی وجہ سے رویا اور اس کے منہ سے آہ ، اوہ ، وغیرہ کے الفاظ پیدا ہوئے تواس کی نماز فاسِد ہوگئی اور دوسرے کو امام کا پڑھنا پسند آیا اس پر رونے لگا اور ارے ، نَعَم ، ہاں ، زبان سے نکلا تو کوئی حرج نہیں کہ یہ خُشُوع کے باعث ہے اور اگر امام کی خُوش اِلْحَانِی کے سبب یہ الفاظ کہے تو نَماز ٹوٹ گئی ۔ (2)
سوال نمازی کے آ گے سے گزرنے کی کیا وعید ہے ؟
جواب نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اگر کوئی جانتا کہ نمازپڑھنے والے اپنے مسلمان بھائی کے سامنے سے گزرنے میں کیا ( گناہ) ہے تو سو برس کھڑا رہنا اس ایک قدم چلنے سے بہتر سمجھتا ۔ (3)
سوال آ دمی کو کب”سُتْرَہ“ بنایا جائے ؟
جواب آ دمی کو اس حالت میں سُتْرَہ کیا جائے جبکہ اس کی پیٹھ نمازی کی طرف ہو ۔ (4)
نماز کی شرائط
سوال جہاں قبلہ کی سَمْت ( Qibla Direction) پتا نہ ہو اور نہ ہی معلوم کرنے کا کوئی
________________________________
1 - درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب مایفسد الصلاة وما یکرہ فیھا ، ۲ / ۴۹۳ ۔
2 - درمختارمع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب مایفسد الصلاة وما یکرہ فیھا ، ۲ / ۴۵۵ ، ۴۵۶ ۔
3 - ابن ماجہ ، کتاب اقامة الصلاة ، باب المرور بین یدی المصلی ، ۱ / ۵۰۶ ، حدیث : ۹۴۶ ۔
4 - حاشیة طحطاوی ، کتاب الصلاة ، فصل فی اتخاذ السترة ، ص۳۶۵ ۔