جواب امام سے پہلے رکوع وسجود میں جانا یا اس سے پہلے سر اٹھانا مکروہ ہے ۔ (1) حضور نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جو امام سے پہلے سر اُٹھاتا اور جھکاتا ہے اُس کی پیشانی کے بال شیطان کے ہاتھ میں ہیں ۔ (2)
سوال وہ کونسی صورت ہے جس میں نماز کے قعدۂ اُولیٰ میں بھول کر سیدھا کھڑا ہوجانے کے بعد بھی بیٹھ جانا واجب ہے ؟
جواب مقتدی قعدۂ اُولیٰ میں بھول کر سیدھا کھڑا ہوجائے تو امام کی مُتابَعَت کے لیے اس پر بیٹھ جانا واجب ہے ۔ (3)
سوال ”سَدل“ کیا ہے اور اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب سَدل کپڑا لٹکانے کوکہتے ہیں ۔ مثلاً سر یا کندھے پر اِس طرح سے چادر یا رُومال وغیرہ ڈالنا کہ دونوں کَنارے لٹکتے ہوں یہ نماز میں مکروہِ تحریمی ہے ۔ ہاں اگر ایک کَنارا دوسرے کندھے پر ڈال دیا اور دوسرا لٹک رہا ہے تو حَرَج نہیں ۔ (4)
سوال تشبیک کسے کہتے ہیں اور اس کا حکم بیان کیجئے ؟
جواب ایک ہاتھ کی اُنگلیاں دوسرے ہاتھ کی اُنگلیوں میں ڈالنا تشبیک ہے ۔ دورانِ نماز یا ( توابِعِ نماز میں ، مثلاً) نماز کے لئے جاتے ہوئے یانماز کا انتظار کرتے ہوئے تشبیک کرنا مکروہِ تَحریمی ہے ، خارِجِ نماز میں ( جبکہ توابِعِ نماز میں بھی نہ ہو) بِلا ضرورت ایسا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے اورخارِجِ نماز میں انگلیوں کو آرام دینے یا
________________________________
1 - بہار شریعت ، ۱ / ۶۲۹ ۔
2 - موطا امام مالک ، کتاب الصلاة ، باب مایفعل من رفع راسہ قبل الامام ، ۱ / ۱۰۲ ، حدیث : ۲۱۲ ۔
3 - مراقی الفلاح ، کتاب الصلاة ، باب سجود السھو ، ص۲۴۵ ۔
4 - ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب مایفسد الصلاة وما یکرہ فیھا ، ۲ / ۴۸۸ ۔