Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
67 - 360
جواب	امام سے پہلے رکوع وسجود میں جانا یا اس سے پہلے سر اٹھانا مکروہ ہے ۔  (1) حضور نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جو امام سے پہلے سر اُٹھاتا اور جھکاتا ہے اُس کی پیشانی کے بال شیطان کے ہاتھ میں ہیں ۔  (2) 
سوال	وہ کونسی صورت ہے جس میں نماز کے قعدۂ اُولیٰ میں بھول کر سیدھا کھڑا ہوجانے کے بعد بھی بیٹھ جانا واجب ہے ؟ 
جواب 	مقتدی قعدۂ اُولیٰ میں بھول کر سیدھا کھڑا ہوجائے تو امام کی مُتابَعَت کے لیے اس پر بیٹھ جانا واجب ہے  ۔  (3) 
سوال	”سَدل“ کیا ہے اور اس کا کیا حکم ہے ؟ 
جواب	سَدل کپڑا لٹکانے کوکہتے ہیں ۔  مثلاً سر یا کندھے پر اِس طرح سے چادر یا رُومال وغیرہ ڈالنا کہ دونوں کَنارے لٹکتے ہوں یہ نماز میں مکروہِ تحریمی ہے ۔ ہاں اگر ایک کَنارا دوسرے کندھے پر ڈال دیا اور دوسرا لٹک رہا ہے تو حَرَج نہیں ۔  (4) 
سوال	تشبیک کسے کہتے ہیں  اور اس کا حکم بیان کیجئے ؟ 
جواب	ایک ہاتھ کی اُنگلیاں دوسرے ہاتھ کی اُنگلیوں میں ڈالنا تشبیک ہے ۔ دورانِ نماز یا  (  توابِعِ نماز میں ، مثلاً) نماز کے لئے جاتے ہوئے یانماز کا انتظار کرتے ہوئے تشبیک کرنا مکروہِ تَحریمی ہے ، خارِجِ نماز میں  (  جبکہ توابِعِ نماز میں بھی نہ ہو) بِلا ضرورت ایسا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے اورخارِجِ نماز میں انگلیوں کو آرام دینے یا 



________________________________
1 -      بہار شریعت ، ۱ / ۶۲۹ ۔ 
2 -     موطا امام مالک ، کتاب الصلاة ، باب مایفعل من رفع راسہ قبل الامام ، ۱ / ۱۰۲ ، حدیث : ۲۱۲ ۔ 
3 -     مراقی الفلاح ، کتاب الصلاة ، باب سجود السھو ، ص۲۴۵ ۔ 
4 -     ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب مایفسد الصلاة وما یکرہ فیھا ، ۲ /  ۴۸۸ ۔